اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے 35 رکنی بورڈ آف گورنرز نے بدھ کے روز ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے اسد خاندان کے دور حکومت میں شام کی جوہری سرگرمیوں سے متعلق باقی ماندہ معاملات کی تحقیقات کا عمل ختم کرنے کا اعلان کیا۔
یہ قرارداد اس وقت منظور کی گئی جب ایجنسی نے اعلان کیا کہ شام کی نئی حکومت نے باقی تمام سوالات کے حل کے لیے تعاون کیا ہے۔
الاخبار کے مطابق، شام کی جوہری سرگرمیوں کا معاملہ 2007 میں صیہونی حکومت کی جانب سے مشرقی شام کے صوبہ دیرالزور میں ایک تنصیب پر حملے کے بعد سامنے آیا تھا۔ صیہونی حکومت کا دعویٰ تھا کہ یہ ایک خفیہ جوہری ری ایکٹر تھا جس کی تعمیر آخری مراحل میں پہنچ چکی تھی۔
اس حملے کے بعد بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے دمشق سے اپنی جوہری سرگرمیوں کے بارے میں وضاحت طلب کی، تاہم اس وقت کی شامی حکومت نے یہ مطالبہ مسترد کر دیا تھا۔ ایجنسی کی حالیہ خفیہ رپورٹ میں بھی کہا گیا تھا کہ باقی تمام معاملات سے متعلق ضروری جوابات موصول ہو چکے ہیں۔
مصر، اردن، مراکش اور سعودی عرب کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں شام کی جانب سے شفافیت اور تعاون کا خیرمقدم کیا گیا اور عدم پاسداری کے معاملے کو حل کرنے کے لیے اس کے اقدامات کو سراہا گیا۔
اجلاس میں شریک سفارت کاروں نے بھی بتایا کہ بورڈ آف گورنرز نے یہ قرارداد کسی مخالفت کے بغیر متفقہ طور پر منظور کی۔ قرارداد کے متن کے مطابق شام اب اپنی جوہری ذمہ داریوں کی عدم پاسداری کی صورتحال میں نہیں رہا۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے اپنی جائزہ رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ ’’بہت زیادہ امکان‘‘ ہے کہ دیرالزور میں نشانہ بنائی جانے والی تنصیب ایک جوہری ری ایکٹر تھی اور اس میں استعمال ہونے والا ایندھن بھی شام کے اندر تیار کیا گیا تھا۔
ایجنسی کے معائنے کے دوران شام میں تقریباً 73 ٹن قدرتی یورینیم دھات بھی دریافت ہوئی، جس کا بیشتر حصہ ایندھن کی سلاخوں کی شکل میں ہے۔
یہ مواد اس وقت بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں ہے اور شامی حکام نے اعلان کیا ہے کہ یہ مواد بدستور شام کی سرزمین پر موجود رہے گا۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز نے 2011 میں شام پر جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیج دیا تھا۔
2024 میں بشار اسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام کی نئی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ ماضی کی جوہری سرگرمیوں کی حقیقت واضح کرنے کے لیے ایجنسی کے ساتھ تعاون کرے گی۔ ایجنسی کے مطابق یہ تعاون اب باقی ماندہ معاملات کے حل اور شام کی عدم پاسداری کی حیثیت کے خاتمے کا باعث بنا ہے۔
آپ کا تبصرہ